زخمی دل ہے میرا پھر سے دل لگانے کی چاہت کیسے کروں
Poet: M,masood By: M,masood, Nottinghamزخمی دل ہے میرا پھر سے دل لگانے کی چاہت کیسے کروں
ابھی تو بھرے نہیں پہلی محبت کے زخم محبت کیسے کروں
چھوڑ گیا وہ پر اب بھی اعتبار اُس کے لوٹ آنے کا مجھے
رضامند میں بھی تھا وقت کے تقاضے پر شکایت کیسے کروں
گرتے حال ہوا میں شرمشار بھی جس کے زینت کی کا تیر
گر رسوائی اُسے ہے اپنی محبت کی زالالت کیسے کروں
کیوں میں بِے زبان ہوں زمانے کے تنزیہ بھرے سوالوں پر
مخالف محبت کے اپنے ہی ہیں خود ہی عداوت کیسے کروں
اے خدا کیا اب یہی ہے عبادتِ ہجر مسعود پر اب تیرا
چشم دردیدہ میں مبتلا کر دیا اب تیری عبادت کیسے کروں
کہتا ہے کوئی خود غرض مار گیا ہے تجھے چھوڑ جانے والا
زندہ میرے دل میں اب بھی وہ تو اُس کی شہادت کیسے کروں
درد ہے اپنے درد کا احساس اپنی کسی غزل سے ہی کروں
کیوں کر زبان سے زمانے کو عام اپنے جذبات کیسے کروں
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






