ہمیں خلوص بھی نہ مل سکا زمانے سے
Poet: Dr.Zahid Sheikh By: Dr.Zahid Sheikh, Lahore Pakistanعجیب لوگ ہیں باتوں سے مار دیتے ہیں
یوں بازی جیت کے بھی ہم تو ہار دیتے ہیں
نہ جینا آیا ہمیں آج تک زمانے میں
جو قدر کرتے نہیں ان کو پیار دیتے ہیں
ہمیں خلوص بھی نہ مل سکا کسی سے کبھی
ہم اپنی جان بھی لوگوں پہ وار دیتے ہیں
ہمارا ظرف تو دیکھو کہ دشمنوں کو سدا
خذاں کے بدلے میں مہکی بہار دیتے ہیں
مدد کے ہم سے ہیں طالب جو وقت پڑنے پر
ہمیں یہ کہتے تھے “ہم نہ ادھار دیتے ہیں “
کرو تلاش زمانے میں ان فقیروں کو
جو اک نظر سے دلوں کو قرار دیتے ہیں
بنے ہیں دوست وہ زاہد عدو کہیں جن کو
ہمیشہ پھولوں کے بدلے میں خار دیتے ہیں
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






