ہمیں خلوص بھی نہ مل سکا زمانے سے

Poet: Dr.Zahid Sheikh By: Dr.Zahid Sheikh, Lahore Pakistan

عجیب لوگ ہیں باتوں سے مار دیتے ہیں
یوں بازی جیت کے بھی ہم تو ہار دیتے ہیں

نہ جینا آیا ہمیں آج تک زمانے میں
جو قدر کرتے نہیں ان کو پیار دیتے ہیں

ہمیں خلوص بھی نہ مل سکا کسی سے کبھی
ہم اپنی جان بھی لوگوں پہ وار دیتے ہیں

ہمارا ظرف تو دیکھو کہ دشمنوں کو سدا
خذاں کے بدلے میں مہکی بہار دیتے ہیں

مدد کے ہم سے ہیں طالب جو وقت پڑنے پر
ہمیں یہ کہتے تھے “ہم نہ ادھار دیتے ہیں “

کرو تلاش زمانے میں ان فقیروں کو
جو اک نظر سے دلوں کو قرار دیتے ہیں

بنے ہیں دوست وہ زاہد عدو کہیں جن کو
ہمیشہ پھولوں کے بدلے میں خار دیتے ہیں

Rate it:
Views: 1011
27 Oct, 2013
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL