زرا تھم کر یہاں کچھ لڑکیاں آرام کرتی ہیں
Poet: muhammad nawaz By: muhammad nawaz, sangla hillدل وحشی میں اکثر کرچیاں آرام کرتی ہیں
لب گرداب پاگل کشتیاں آرام کرتی ہیں
میری خاموشیوں کا تجزیہ کر کے ہی جانو گے
رکے لمحوں میں کتنی آندھیاں آرام کرتی ہیں
کہیں بھی زندگی کا ساتھ نہ چھوڑا امنگوں نے
میرے چلتے لہو میں تتلیاں آرام کرتی ہیں
بہاریں روٹھ کے گزریں پریشاں ہے چمن سارا
کہاں ہو تم کہاں وہ شوخیاں آرام کرتی ہیں
پرندوں کا جبھی تو کوچ کر جانا ہی بہتر ہے
سنا ہے گھونسلوں میں بجلیاں آرام کرتی ہیں
جہاں والے سمجھتے ہیں جسے تخلیق گوہر کی
دبا کر دل میں آنسو سیپیاں آرام کرتی ہیں
تو پھر پلکوں پہ بھی دستک کہاں محسوس ہوتی ہے
کہ جس موسم میں دل کی کھڑکیاں آرام کرتی ہیں
چھڑی خوشبو تو فطرت کا وہی پھر بانکپن بولا
ذرا تھم کر یہاں کچھ لڑکیاں آرام کرتی ہیں
چھپا رکھا ہے سب سے تم کو پھر بھی لوگ کہتے ہیں
میرے لفظوں میں تیری سسکیاں آرام کرتی ہیں
More Love / Romantic Poetry
جتنی چاہت چاہو گے ہم کریں گے تم سے روٹھ جانے کی ہی بات کیوں کرتے ہو
تم ہم سے منانے کی بات کیوں کرتے ہو
ہم یونہی پیار کر لیتے ہیں تمھیں
ہمیں تڑپانے کی بات کیوں کرتے ہو
اس بے رخی میں کتنی محبت ہے چھپی
پیار ہے پھر ترسانے کی بات کیوں کرتے ہو
باتیں ساری تم سے وابستہ اچھی لگتی ہیں
کیوں نہیں انھیں دھرانے کی بات کرتے ہو
جتنی چاہت چاہو گے ہم کریں گے تم سے
پھر بینا سے آزمانے کی بات کیوں کرتے ہو
تم ہم سے منانے کی بات کیوں کرتے ہو
ہم یونہی پیار کر لیتے ہیں تمھیں
ہمیں تڑپانے کی بات کیوں کرتے ہو
اس بے رخی میں کتنی محبت ہے چھپی
پیار ہے پھر ترسانے کی بات کیوں کرتے ہو
باتیں ساری تم سے وابستہ اچھی لگتی ہیں
کیوں نہیں انھیں دھرانے کی بات کرتے ہو
جتنی چاہت چاہو گے ہم کریں گے تم سے
پھر بینا سے آزمانے کی بات کیوں کرتے ہو
Bina
من میں تمھیں بسا کے من میں تمھیں بسا کے
انکھیوں میں تمھیں چھپا کے
پرستان تمھیں لے جا کے
رکھیں گے اپنا بنا کے
سنگ ہونگے نکاح سے
ہم اللہ کو گواہ بنا کے
خوشیاں منا کے
گھر تم سے بسا کے
چاند کی ٹھنڈک میں
مدھم مدھم روشنی میں
ہلکی ہلکی بارش میں
روپہلی دھوپ سنہری میں
ہولے ہولے دل ڈھڑ کتے
دھیرے دھیرے سانس چلتے
چاہت میں ڈوبے ڈوبے
اک دوسرے سے پیار کرتے
آپ کی شہد سی میٹھی باتوں میں کھوئے رہیں گے
بینا آپ کے ہوکے ہم آپ کے ہی ہوئے رہیں گے
انکھیوں میں تمھیں چھپا کے
پرستان تمھیں لے جا کے
رکھیں گے اپنا بنا کے
سنگ ہونگے نکاح سے
ہم اللہ کو گواہ بنا کے
خوشیاں منا کے
گھر تم سے بسا کے
چاند کی ٹھنڈک میں
مدھم مدھم روشنی میں
ہلکی ہلکی بارش میں
روپہلی دھوپ سنہری میں
ہولے ہولے دل ڈھڑ کتے
دھیرے دھیرے سانس چلتے
چاہت میں ڈوبے ڈوبے
اک دوسرے سے پیار کرتے
آپ کی شہد سی میٹھی باتوں میں کھوئے رہیں گے
بینا آپ کے ہوکے ہم آپ کے ہی ہوئے رہیں گے
Bina






