زرد پتوں کی پہلی بارش
Poet: SHABEEB HASHMI By: SHABEEB HASHMI, ALKHOBAR (KSA)وہ زرد پتوں کی پہلی بارش
اور موسموں کا مچلتے رہنا
وہ گنگناتی لہروں کی سرگم
اور تیری یادوں کا سلگتے رہنا
وہ ننگے پاؤں دھوپ میں چلنا
اور دکھوں کو گنتے رھنا
پھر رت جگؤں کی بنا کے مالا
اور خود فریبی میں ہنستے رہنا
وہ تاریکیوں کا گہرا جنگل
اورخوف کی وادی کی دشوار راہیں
گرا کے بجلی یوں آشیاں پے
اپنے دل کو مسلتے رہنا
وہ خزاں میں گرتے پیلے موتی
اور انکا درختوں پہ پھسلتے رھنا
یوں یاد آئے کہ جاں سے گزرے
اور دکھ سمندر میں ڈھلتے رہنا
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






