زلفوں کو میرے شانوں پہ یوں نہ گرائیے
Poet: dr.zahid sheikh By: dr.zahid sheikh, lahore pakistanزلفوں کو میرے شانوں پہ یوں نہ گرائیے
اتنا قریب آ کے ستم تو نہ ڈھائیے
خوشبو بدن کی ایسے نہ مجھ پہ لٹائیے
اب اور میرے ضبط کو نہ آزمائیے
مستی بھری نگاہوں سے دیکھیں نہ بار بار
پھر ہوش میں نہ آؤں نہ آتنا پلا ئیے
سانسیں ہیں گرم گرم سی اس سرد رات میں
ہونٹوں پہ بات دل کی خدارا نہ لائیے
سچی وفا کے وصل کی گھڑیوں کی اور بات
جھوٹی محبتوں میں نہ لمحے گنوائیے
دل تو شریر ہے یہ کرے گا شرارتیں
سمجھائیے ذرا اسے قابو میں لائیے
اب گھر کو جائیے کہ بہت رات ہو چکی
ملنا ہی ہے تو دن کے اجالے میں آئیے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






