زلفیں تھیں یا بادل کالے
Poet: توقیر اعجاز دیپک By: سدرہ انور, Pershawerزلفیں تھیں یا بادل کالے
پڑ گئے مجھ کو جان کے لالے
آنکھیں سب کچھ بول رہی تھیں
ہونٹوں پر تھے چپ کے تالے
جب سے تیرے لب ہیں دیکھے
بھول گیا ہوں مَے کے پیالے
ایک خوشی کی حسرت لے کر
غم بھی میں نے ہنس کر پالے
تیرا آنا مشکل ہے تو
مجھ کو اپنے پاس بلا لے
تو ہے سیدھا سادھا پگلے
دنیا کے انداز نرالے
اب کے بھی سیلاب جو آیا
میں نے تیرے پَتر سنبھالے
چاند گلی میں دیکھا تو نے
چل پھر دیپک عید منا لے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






