زمانہ نہیں ہوتا
Poet: Imran Niazi By: Imran Niazi, Bhakkarعمران جہاں تو ہو زمانہ نہیں ہوتا
ہر بات پہ جانا یہ بہانہ نہیں ہوتا
اے میرے غلط فہم زرا سوچ اکیلے میں
ہر بات کا حل چھوڑ کہ جانا نہیں ہوتا
اُس شخص کی آنکھوں میں عجب کیف بھرا ہے
جب سامنے ہوتی ہیں زمانہ نہیں ہوتا
آئے کوئی آکر اُسے اَتنا تو بتائے
ہر بات کو ہنس ہنس کہ اُڑانا نہیں ہوتا
ہے گیت اگر زیست، تو پھر دُھن ہے محبت
اور دُھن کے بنا گانا کوئی گانا نہیں ہوتا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






