زمانے میں محبّت کی ایک داستان لکھنی ہے
Poet: ایچ ایم کاشف علی By: H M Kashif Ali, Lahoreزمانے میں محبّت کی ایک داستان لکھنی ہے
بڑی آباد بستی ہے جو ویران لکھنی ہے
جو ڈوبے ہیں صحراؤں میں۔ جو بھیگے ہیں ہواؤں میں
انہی مشہور لوگوں کی کہانی بےنام لکھنی ہے
خاموشی سے سبھی سہنا۔ زباں سے کچھ بھی نہ کہنا
ایسی نظروں کی زبان بے لگام لکھنی ہے
لکھنا ہے کے کچھ بھی ہو نہیں سکتا زمانے میں
جو ہوتی ہے محبّت بھی سبھی بدنام لکھنی ہے
سبھی مصرے ۔ سبھی فقرے ۔ سبھی باتیں تیری حافظ
جو لکھنی ہے کہانی بھی بس تیرے نام لکھنی ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






