زمانے والوں نے کیا کیا نہیں کہا مجھ سے
Poet: مرید باقر انصاری By: مرید باقر انصاری, Karachiزمانے والوں نے کیا کیا نہیں کہا مجھ سے
مگر چھڑا نہ سکا کوئی در ترا مجھ سے
یہ میری ضد تھی کہ ہر وقت پیار کرنا ہے
کچھ اس طرح سے ہوا وہ کبھی جدا مجھ سے
کہ رات دن تُو بھلا کیوں اداس رہتا ہے
کسی نے آج تک ایسے نہیں کہا مجھ سے
میں اپنی مستی میں گم ہوں کسی کی سنتا نہیں
ہر ایک شخص کو بس یہ گلہ رہا مجھ سے
مزاجِ یار نہ برہم کبھی نظر آۓ
تمام شہر ہی بیشک رہے خفا مجھ سے
خدا کو روز بھُلا بھی چکا منا بھی چکا
بس ایک بھول نہ پایا وہ آشنا مجھ سے
تمہارے بعد کئ ہم سفر ملے لیکن
کسی نے درد نہ میرا کبھی سنا مجھ سے
کچھ اس لئے بھی چلا تھا میں جاں گنوانے کو
نہ دیکھا کوئی گیا درد میں گھرا مجھ سے
میں اپنے غم سے جو باقر نہ ہو سکا فارغ
تو کیسے ہوتا کسی شخص کا بھلا مجھ سے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






