زمانے کے سوالوں کے جواب ڈھونڈتی رہی
Poet: Arooj Fatima ( Lucky ) By: AF(Lucky) , K.S.Aزمانے کے سوالوں کے جواب ڈھونڈتی رہی
میں تو زندگی گزارنے کے آداب ڈھونڈتی رہی
جس میں پیار و محبت ، وفا کی باتیں ہوں
تحفے میں دینے کو وہ کتاب ڈھونڈتی رہی
تیری تلخیاں اپنی جگہ بجا ہیں جاناں
جو دل سے نفرت مٹا دے وہ بات ڈھونڈتی رہی
تجھ سے بچھڑے اب تو اک مدت ہوئی
جو تجھ سے ملا دے وہ اسباب ڈھونڈتی رہی
اک عمر تیری آس میں تیرا راستا نہار کر
میں اپنا کھویا ہوا شباب ڈھونڈتی رہی
اب ُاس سے کیسے کہوں کہ اے چارہ گر
تیری دید کی خاطر تیرے احباب ڈھونڈتی رہی
جس میں لکھا ہو ساری مشکلوں کا حل لکی
کتب تقدیر میں وہ باب ڈھونڈتی رہی
وہ آ رہا ہے عید پر ایک عرصے کے بعد
میں راہ میں بچھانے کو گلاب ڈھونڈتی رہی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






