زمین کا حسن برباد نہ کرو
Poet: UA By: UA, Lahoreزمین کا حسن برباد نہ کرو
اس زمین میں فساد نہ کرو
زندگی قدرت کا انعام ہے
زندگی محبت کا پیغام ہے
ایک دوسرے سے پیار جتانا
یہی اسلام کا پیغام ہے
ہنستے بستے چمن میں
ظالمو! ویرانے آباد نہ کرو
زمین کا حسن برباد نہ کرو
اس زمین میں فساد نہ کرو
اخوت، محبت، امن، آشتی
ایثار ، خلوص، وفا دوستی
انسانیت کا شعار ہے
ورنہ تو یہ زندگی خار ہے
نفرت کی چنگاریوں سے
یہ گلشن بے آباد نہ کرو
زمین کا حسن برباد نہ کرو
اس زمین میں فساد نہ کرو
او فتنہ گرو! باز بھی آؤ
دنیا میں نہ دہشت بڑھاؤ
ظلم اور بربریت سے
انسانوں کو ناشاد نہ کرو
زمین کا حسن برباد نہ کرو
اس زمین میں فساد نہ کرو
اشرف المخلوقات ہو کے بھی
رب کا خلیفہ ہو کے بھی
انسان کیوں مجبور ہے
خوشیاں چاہنے والا بندہ
کیوں کیسے رنجور ہے
ہنستی بستی دینا کو
بےدردو! برباد نہ کرو
زمین کا حسن برباد نہ کرو
اس زمین میں فساد نہ کرو
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں
زماں میں قدر دے اردو زباں کو تو
زباں سیکھے تو انگریزی بھولے ا پنی
عیاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
تو سیکھ دوسری ضرورت تک ہو ایسے کہ
مہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زباں غیر کی ہے کیوں اہمیت بتا مجھ کو
سماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
سنہرے لفظ اس کے خوب بناوٹ بھی
زماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
بھولے کیوں خاکؔ طیبؔ ہم زباں ا پنی
جہاں میں قدر دے اُردو ز باں کو تو






