زمیں پہ پیر نہیں سر پہ آسماں سے ہم
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیازمیں پہ پیر نہیں سر پہ آسماں سے ہم...
میں جس جہان میں ہوں وہ ترا جہاں سے ہم...
رہائی جسم کے زنداں سے مل گئی مجھ کو
بدن تھا فانی رہی اس میں کوئی جاں سے ہم...
کسی مقام پہ کرتی نہیں بسیرا کہ اب
ہے لامکان مرا گھر کوئی مکاں سے ہم...
نظر کی حد سے گزر کے پہنچ گی ہوں یہاں
نہ ڈھونڈ پاؤ ں گے میرے کوئی نشاں سے ہم...
کوئی بھی شے نہیں مستور کائنات کی اب
کوئی بھی پردہ نگاہوں کے درمیاں سے ہم...
ہر ایک شہر میں دہشت کا راج ہونے لگے
تو کیا عجب کہ سخن کا ہو جو سماں سے ہم
خلا کی وسعتوں سے میں نکل گی ہوں وشمہ
یہاں نظام ہے کچھ اور وہ زماں سے ہم...
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






