زندگی جب بوجھ بن جاتی ہے تو
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیااشک پی کر مسکرا لیتے ہیں لوگ
درد سینے میں چھپا لیتے ہیں لوگ
زندگی جب بوجھ بن جاتی ہے تو
موت کو سینے لگا لیتے ہیں لوگ
اپنی خود داری کا رکھنے کو بھرم
آہ ہونٹوں میں دبا لیتے ہیں لوگ
زہر پیتے ہیں یہ آخر کس لیے
اپنی ہستی کیوں مٹا لیتے ہیں لوگ
خواب جو پورے نہیں ہوتے کبھی
اپنی آنکھوں میں سجا لیتے ہیں لوگ
جب بھلا ئی کر کے بھی کچھ نہ ملے
تو برا خود کو بنا لیتے ہیں لوگ
تلخیوں سے کر کے سمجھوتہ کبھی
ہر تمنا کو سلا لیتے ہیں لوگ
جب خوشی رہتی ہو ان سے اجنبی
غم کو ہی اپنا بنا لیتے ہیں لوگ
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






