زندگی راہ وفا میں جو مٹا دیتے ہیں
Poet: گلزار دہلوی By: Hassan, Karachiزندگی راہ وفا میں جو مٹا دیتے ہیں
نقش الفت کا وہ دنیا میں جما دیتے ہیں
اس طرح جرم محبت کی سزا دیتے ہیں
وہ جسے اپنا سمجھتے ہیں مٹا دیتے ہیں
ایک جل روز ہمیں آپ نیا دیتے ہیں
وعدۂ وصل کو باتوں میں اڑا دیتے ہیں
خم و مینا و سبو بزم میں آتے آتے
اپنی آنکھوں سے کئی جام پلا دیتے ہیں
حسن کا کوئی جدا تو نہیں ہوتا انداز
عشق والے انہیں انداز سکھا دیتے ہیں
کوسنے دیتے ہیں جس وقت بتان طناز
ہاتھ اٹھائے ہوئے ہم ان کو دعا دیتے ہیں
میرے خوابوں میں بھی آتے ہیں عدو کے ہم راہ
یہ وفاؤں کا مری آپ صلہ دیتے ہیں
حالت غیر پہ یوں خیر سے ہنسنے والے
اس توجہ کی بھی ہم تم کو دعا دیتے ہیں
شہر میں روز اڑا کر مرے مرنے کی خبر
جشن وہ روز رقیبوں کا منا دیتے ہیں
دیر و کعبہ ہو کلیسا ہو کہ مے خانہ ہو
سب ہر اک در پہ تجھی کو تو صدا دیتے ہیں
عشوہ و حسن و ادا پر تری مرنے والے
کتنے معصوم یوں ہی عمر گنوا دیتے ہیں
پئے گل گشت وہ گل پوش جو آئے گلزارؔ
زندگی سبزے کے مانند بچھا دیتے ہیں
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
تمہیں ہم سے ہے بےزاری، مان لیتے ہیں
ہماری جان لینے والو! اتنا جان رکھو
ہم اپنی جان بھی تم پر ہی وار دیتے ہیں
وقتِ مرگ میرے جنازے پہ آ کے دیکھو
جو روتے ہیں، انھیں ہم اب حساب دیتے ہیں
مری تربت پہ اتنے اشک نہ بہا پروین
ہمیں کافور کے غسل کا حکم دیتے ہیں
تم سے کن حالات میں کیسے محبت سے وفا نبھا رہا ہے کوئی
ہو گی قدر تمھیں اس وقت جب پتہ چلے گا ہماری چاہت کا
دیکھو ادھر اک نظر کس قدر پیار سے تم کو منا رہا ہے کوئ
جان ہے کہ جا ئے جا رہی ہے یونہی .
تمھاری بے رخی پہ دور جا رہا ہے کوئی .
کس قدر مشکل میں ہے جاں بینا تم ہی نہ جانو
بن کہے پیار سے پیار تم سے نبھارہا ہے کوئی






