زندگی میں بندگی
Poet: وشمہ خان وشمہ By: washma khan, اسلام آبادخانہ بدوش زندگی میں بندگی ،نہ تم
باغوں میں اب گلاب نہ ، چمپا ، کلی ، نہ تم
پھیلا ہوا ہے دھوپ کا عفریت ہر طرف
گلشن میں کوئی پیڑ ، نہ ہی زندگی ، نہ تم
آنکھوں میں تیرے پیار کو پڑھنا عذاب ہے
کمرے میں کوئی آئینہ ہے ،روشنی ، نہ تم
کیوں عشق کے مزار کی دنیا اجڑ گئی
یاں دیکھنے کو پیار نہ ہی عاشقی ، نہ تم
وشمہ میں آج زندگی کو ہار جاؤں گی
پہلے سے اب نہ دن رہے ،یہ دل لگی ،نہ تم
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






