زندگی میں بھی زندگی نہ رہے
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیازندگی میں بھی زندگی نہ رہے
" عشق مرشد یہ بے بسی نہ رہے"
"سانس ٹوٹے مگر تھمی نہ رہے"
پھر بھی ممکن ہے زندگی نہ رہے
تیری یادوں کے آسماں پہ ابھی
چاند تاروں کی اب کمی نہ رہے
دل کی حدت سے آؤ پگھلا لیں
برف ہجرت کی یہ جمی نہ رہے
میری آنکھوں میں تازگی نہ رہی
نغمے ہونٹوں پہ شبنمی نہ رہے
چاند تارے سجائیں گر محفل
شب کے ہونٹوں پہ خامشی نہ رہے
کیا کروں گی میں ان ستاروں کا
چاند میں بھی جو چاندنی نہ رہے
جب سے پتھر کے ہو گئے ہیں ہم
میرے کوچے میں آدمی نہ رہے
تیری آنکھوں سے آنکھ مل جائے
سچ تو یہ ہے کہ بے بسی نہ رہے-
وشمہ میں تو یہ چاہتی ہوں سدا
میری دشمن سے دشمنی نہ رہے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






