زندگی میں ہر اک لمحہ زخم لے کر آگیا
Poet: Sajad AWan By: Sajad Manzoor AWan, Isalamabadزندگی میں ہر اک لمحہ زخم لے کر آگیا
آیا جو بھی ہمدرد نیا زخم لے کر آگیا
یاد تیری جب بھی آئی تڑپا میں دل کو تھام کہ
تلاش میں تیری نکلا زخم لے کر آگیا
تم سے دور رہ کر دیکھو کیسی حالت ہوگئی
جب بھی کوئی پھول دیکھا زخم لے کر آگیا
سوچوں نہ میں کیسے تجھے کیسے تجھے بھول جاؤں
طلب میں تیری جہاں گیا زخم لے کر آگیا
ہے راہ وفا اک سزا چلنا اس پہ بس خطا
ساجد وفا پہ جو بھی چلا زخم لے کر آگیا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






