زندگی کا کرب وشمہ مجھ پہ بھاری ہو گیا
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملائیشیاپھر یہ کیسی مصلحت ہے قافلہ سالار سے
کیوں تعلق مجھ سے بھڑ کر ہے ترا اغیار سے
دیکھنی ہو میری صورت تو چلے آنا کبھی
میری تو اب ہے کہانی مصر کے بازار سے
میرے حصے میں ہیں کانٹے ، میرے حصے میں خزاں
پھر مجھے لینا ہی کیا ہے پھول کی مہکار سے
اب پیارے لگ رہے ہیں درد کے موسم سبھی
لطف لینا آ گیا ہے شدّتِ آزار سے
تجھ کو پانے کی یہ خواہش میری خواہش ہی رہی
تیری سنگت میں گزارے دن سبھی بیکار سے
چبھ رہی ہے مجھ کو تیری ہار اب بھی زندگی
جیت لوں گی ایک دن میں تجھ کو اپنے پیار سے
زندگی کا کرب وشمہ مجھ پہ بھاری ہو گیا
مجھ کو سارے لگ رہے ہیں تیر سے ، تلوار سے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






