زندگی کے قریب آؤ تم
Poet: washma khan washma By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیازندگی کے قریب آؤ تم
درد سہہ کر بھی مسکراؤ تم
درد چہرے پہ آ ہی جاتے ہیں
ظرف یہ ہے کہ سب چھپاؤ تم
چاند لگتا ہے رات میں روشن
جب بھی آنگن میں مسکراؤ تم
سن کے لوگوں کی بات و افسانے
اپنے افکار بھول جاؤ تم
تیری رہ میں غریب خانہ ہے
بھول کر ہی کبھی تو آؤ تم
زندگی کے نگار خانے میں
لو محبت سے بس لگاؤ تم
غم کے بادل ہیں ہر طرف پھیلے
وشمہ ٹھہرو ابھی نہ جاؤ تم
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






