زندگی گزری مری خشک شجر کی صورت
Poet: عفان By: عفان, Lahoreزندگی گزری مری خشک شجر کی صورت
میں نے دیکھی نہ کبھی برگ و ثمر کی صورت
خوب جی بھر کے رلائیں جو نظر میں ان کی
قیمتی ہوں مرے آنسو بھی گہر کی صورت
اپنے چہرے سے جو زلفوں کو ہٹایا اس نے
دیکھ لی شام نے تابندہ سحر کی صورت
اس نئے دور کی تہذیب سے اللہ بچائے
مسخ ہوتی نظر آتی ہے بشر کی صورت
حرم و دیر سے مطلب نہ کلیسا سے غرض
کاش یہ بھی کہیں ہوتے ترے گھر کی صورت
نیک اعمال بھی اوروں کے نہیں جپتے ہیں
عیب اپنے نظر آتے ہیں ہنر کی صورت
کیا کوئی اس پہ بھی افتاد پڑی ہے آتشؔ
ابر برسا ہے مرے دیدۂ تر کی صورت
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






