زندگی
Poet: م الف ارشیؔ By: Muhammad Arshad Qureshi, Karachiتم یہاں کھوجتے ہو لوگ خزینے والے
لوگ ملتے نہیں ہم کو دعا دینے والے
اتنی جلدی بھی تجھے کیا تھی گذر جانے کی
" زندگی ہم تھے تجھے ٹوٹ کے جینے والے "
چند لمحوں کی ہی بس تو نے بھی مہلت دی تھی
ورنہ ہم جام تھے ایک اور بھی پینے والے
جانے کس خوف سے وہ چھوڑ گئی تھی مجھ کو
ہم تو تھے آگ کے دریا کو بھی پینے والے
ڈوبتا دیکھا تو منہ پھیر لیا تھا سب نے
سامنے میرے تھے سارے ہی سفینے والے
خالی پیمانہ لیئے لوٹ گیا تھا آخر
لوگ تھے سارے ترے ہاتھ سے پینے والے
یاد شدت سے مجھے آتی ہے اب بھی اس کی
زخم آنکھوں میں امڈ آتے ہیں سینے والے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






