زہر
Poet: شفق By: Shafaq, Lahoreمارنے کے لیے زہر ضروری نہیں تھا
تم منہ موڑ لیتے ہم مر جاتے
پیار نہیں تھا تو کہ دیتے
ہم چار قدم پیچھے ہو جاتے
تیری عاشقی میں پہلے ہی برباد تھے
تیری نارضگی میں کون سا جی لیتے
تو ایک بار کہ تو دیتا جانے کو
تیری خواہش پر سر جھکاتے
دے کر ہمیں زہر اب پچھتاؤ گے
ہم جیسا عاشق نہ ڈھونڈ پاؤ گے
ملنے کو بے تاب رہتے تھے ہم تم سے
آب فراق میں ہمارے جل جل جاؤ گے
زہر دے کر ہمیں جو تم خوش تھے
آب روز تنہای میں ماتم مناؤ گے
مر گئے ہیں اگر ہم تو
چین سے تم بھی نہ جی پاؤ گے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






