زیرِلب مسکرائے وہ دل دکھانے کے بعد
Poet: Ibn.e.Raza By: Ibn.e.Raza, islamabadزیرِ لب مسکرائے وہ دل دکھانے کے بعد
اب محو ِتماشہ ہیں مجھے رُلانےکے بعد
اداسیاں بھی مجھے تنہا نہیں دیکھ سکتیں
میرے قریب رہتی ہیں تیرے جانے کے بعد
آنسوؤں سے بجھانےآئے ہیں شعلہ و شرر
میرے نشیمن پہ بجلیاں گرانے کے بعد
ساقی نے جام دے کر از راہ ِ مزاح پوچھا
اب کہاں جاؤ گے اس مے خانے کے بعد
یہ کس روش پہ چل نکلا ہے مہرباں میرا
خود ہی روٹھ گیا مجھے منانے کے بعد
دل کو یہ خلش مضطرب کئے رکھتی ہے
گنوا دیا میں نے اُسے مگر پانے کے بعد
ریت کے زرّوں میں دھونڈتا پھرتا ہوں
تیرے قدموں کے نشاں مٹانے کے بعد
عالم ِوصل میں فرقتوں کا حساب مانگا تو
سنجیدہ سے ہو گئے وہ بڑبڑانے کے بعد
پنچھی نے وقتِ رہائی پروں کو لہرایا تو
بے بسی سے گر پڑا پھڑپھڑانے کے بعد
سنا ہے وہ بھی پریشاں سا رہتا ہے آجکل
مجھ سے یوں دوریاں بڑھانے کے بعد
وہ میرا ہو سکا ، نہ میں اپنا ہی رہا
یوں پائی سزا میں نے دل لگانے کے بعد
بات تو جب تھی وہ میری بھی سن لیتا
پھر نا جاسکتا فقط اپنی سُنانے کے بعد
متائے جاں بھی رضا نظر ِجاناں کر دوں
اُسکو سکوں ملتا ہے اگر ستانے کے بعد
تم ہم سے منانے کی بات کیوں کرتے ہو
ہم یونہی پیار کر لیتے ہیں تمھیں
ہمیں تڑپانے کی بات کیوں کرتے ہو
اس بے رخی میں کتنی محبت ہے چھپی
پیار ہے پھر ترسانے کی بات کیوں کرتے ہو
باتیں ساری تم سے وابستہ اچھی لگتی ہیں
کیوں نہیں انھیں دھرانے کی بات کرتے ہو
جتنی چاہت چاہو گے ہم کریں گے تم سے
پھر بینا سے آزمانے کی بات کیوں کرتے ہو
انکھیوں میں تمھیں چھپا کے
پرستان تمھیں لے جا کے
رکھیں گے اپنا بنا کے
سنگ ہونگے نکاح سے
ہم اللہ کو گواہ بنا کے
خوشیاں منا کے
گھر تم سے بسا کے
چاند کی ٹھنڈک میں
مدھم مدھم روشنی میں
ہلکی ہلکی بارش میں
روپہلی دھوپ سنہری میں
ہولے ہولے دل ڈھڑ کتے
دھیرے دھیرے سانس چلتے
چاہت میں ڈوبے ڈوبے
اک دوسرے سے پیار کرتے
آپ کی شہد سی میٹھی باتوں میں کھوئے رہیں گے
بینا آپ کے ہوکے ہم آپ کے ہی ہوئے رہیں گے






