زیر اثر
Poet: درخشندہ By: Darakhshanda, Houstonہولے بدنام زمانہ یونہی تیرے زیر اثر میں
رہے ہم بھی یونہی رہ سفر تیرے زیر اثر میں
بھٹکے یونہی نگر نگر زندگی کے سفر میں
منزل نہ کنارہ چلتے رہے تیرے زیر اثر میں
آگاہی بہت تجھ سے ہی زندگی تیرے سفرمیں
نہ رہی طلب کوی ہمسفر کے زیر اثر میں
دیکھے ہمسفر جو مقید اپنی ہی منزل میں
تنہائ کے اسیر اپنے ہمسفر کے زیراثر میں
چلے ہم قدم با قدم تیرے ساتھ زندگی کےسفرمیں
حق ادا ہوا نہ ہوا گزری تو اپنی بھی تیرے زیر اثرمیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






