زیر لب جب وہ مسکرانے لگے
Poet: Fazlul Hasan By: F.H.Siddiqui, Lucknow زیر لب جب وہ مسکرانے لگے
یوں لگا ہم قریب آنے لگے
جب اداؤں سے وہ منا نہ سکے
آ کے پیچھے سے گدگدانے لگے
سیکھے گر ہم سے آزمانے کے
پھر ہمیں پر وہ آزمانے لگے
علم پھیلا تو پھیلی خوش حالی
بیٹے بیٹی سبھی کمانے لگے
اس نے رسما جو حال پوچھ لیا
اپنی اپنی سبھی سنانے لگے
ڈالی ہم پر بھی غائرانہ نظر
مل کے غیروں سے جب وہ جانے لگے
دوریاں دور ہو رہی ہیں حسن
اب تو وہ گھر بھی آنے جانے لگے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






