کتنی دیر تک املتاس کے پیڑ کے نیچے بیٹھ کے ہم نے باتیں کیں کچھ یاد نہیں بس اتنا اندازہ ہے چاند ہماری پشت سے ہو کر آنکھوں تک پہنچا تھا