کچھ تو ہوا بھی سرد تھی، کچھ تھا تیرا خیال بھی
Poet: Perveen Shakir By: TARIQ BALOCH, HUB CHOWKIکچھ تو ہوا بھی سرد تھی، کچھ تھا تیرا خیال بھی
دل کو خوشی کے ساتھ ساتھ ہوتا رہا ملال بھی
بات وہ آدھی رات کی، رات وہ پورے چاند کی
چاند بھی عین چیت کا اُس پہ تیرا جمال بھی
سب سے نظر بچا کے وہ مجھ کو کچھ ایسے دیکھتا
ایک دفعہ تو رُک گئی گردشِ ماہ و سال بھی
دل تو چمک سکے گا کیا، پھر بھی تراش کے دیکھ لیں
شیشہ گرانِ شہر کے ہاتھ کا یہ کمال بھی
اُس کو نہ پا سکے تھے جب دل کا عجیب حال تھا
اب جو پلٹ کے دیکھتے بات تھی کچھ محال بھی
میری طلب تھا ایک شخص وہ جو نہیں ملا تو پھر
ہاتھ دعا سے یوں گرا، بُھول گیا سوال بھی
اُس کی سخن طرازیاں میرے لئے بھی ڈھال تھیں
اُس کی ہنسی میں چُھپ گیا اپنے غموں کا حال بھی
گاہ قریبِ شاہ رگ، گاہ بعیدِ وہم و خواب
اُس کی رفاقتوں میں رات، ہجر بھی تھا وصال بھی
اُس کے ہی بازوؤں میں اور اُس کو ہی سوچتے رہے
جسم کی خواہشوں پہ تھے روح کے اور جال بھی
شام کی ناسمجھ ہوا پوچھ رہی ہے اِک پتا
موجِ ہوائے کوئے یار، کچھ تو میرا خیال بھی
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم
اکیلے ہی گزارا کر لیا میں نے
سکوں ملتا نہیں مجھ کو اجالے میں
اندھیروں کو ہی پیارا کر لیا میں نے
اگرچہ زیست مشکل تھی یہ تیرے بن
مگر سب کچھ گوارا کر لیا میں نے
یہ دنیا نفع کی عادی تو ہے لیکن
محبت میں خسارا کر لیا میں نے
جھکا کر سر گریبانِ جنوں میں پھر
عجب دلکش نظارا کر لیا میں نے
مقدر کی اندھیری رات میں گویا
خود اپنے کو ستارا کر لیا میں نے






