ساحل، چاند، ہوا اور میں
Poet: By: حنا, کراچیبکھرے بکھرے سے رہتے ہیں، ساحل، چاند، ہوا اور میں
ریت پہ کیا لکھتے رہتے ہیں، ساحل، چاند، ہوا اور میں
جب پانی میں چاند کی کرنیں عکس بنانے لگتی ہیں
آپس میں کھیلا کرتے ہیں، ساحل، چاند، ہوا اور میں
کوئی صدا مجبور کئے جاتی ہے ہمیں کچھ کہنے پر
بات مگر کم ہی کرتے ہیں، ساحل، چاند، ہوا اور میں
گل خوشبو سے، دل امید سے، آنکھیں نیند سے خالی ہیں
برسوں بیٹھے جاگ رہے ہیں، ساحل، چاند ، ہوا اور میں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






