ساحل
Poet: Amjad Islam Amjad By: Shazia Hafeez, Attockتمہارے نام کے حرفوں سے بہتر ابجد میں نہیں ہیں
نجانے کب سے یہ موسم
ستاروں کی طرح دھرتی کے سینے پر فروزاں ہیں
مگر ان کی نگاہوں نے
تمہارے وصل کے لمحوں سے بہتر وقت
دیکھا ہے نہ سوچا ہے
ہوا نے منظروں پر آج تک جو کچھ بھی لکھا ہے
تمہارا نام لکھا ہے
خلا میں ٹوٹتے تارے تمہارے بام سے گزریں
تو رکنے کو مچلتے ہیں
فلک کو چومتے جذبات تمہاری آنکھ سے اتریں
تو پاتالوں میں گرتے ہیں
تمہارے خواب سے روشن منارے
وقت کے دریائے بے حد میں نہیں
تمہارے نام کے حرفوں سے بہتر ابجد میں نہیں ہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi








