ساحل
Poet: Amjad Islam Amjad By: Rizwana Khan, karachتمہارے نام کے حرفوں سے بہتر حرف ابجد میں نہیں ہیں
نہ جانے کب سے یہ موسم
ستاروں کی طرح دھرتی کے سینے پر فروزاں ہیں
مگر ان کی نگاہوں نے
تمہارے وصل کے لمحوں سے بہتر وقت
دیکھا ہے،نہ سوچا ہے
ہوا نے منظروں پر،آج تک جو کچھ بھی لکھا ہے
تمہارے نام لکھا ہے
خلا میں ٹوٹتے تارے،تمہارے بام سے گزریں
تو رکنے کو مچلتے ہیں
فلک کو چومتے جذبے،تمہاری آنکھ سے اتریں
تو پاتالوں میں گرتے ہیں
تمہارے خواب سے روشن منارے
وقت کے دریائے بے حد میں نہیں ہیں
تمہارے نام کے حرفوں سے بہتر حرف ابجد میں نہیں ہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






