ساری جفائیں سارے کرم یاد آ گئے
Poet: ساغر خیامی By: ہارون فضیل, Islamabadساری جفائیں سارے کرم یاد آ گئے
جیسے بھی یاد آئے ہوں ہم یاد آ گئے
جب بھی کہیں سے پیار ملا یا خوشی ملی
دنیا کے درد و رنج الم یاد آ گئے
دیکھیں ہیں جب بھی گل کے قریں چند تتلیاں
کتنے خیال و خواب بہم یاد آ گئے
لکھا تھا تم نے خط میں کہ تم نے بھلا دیا
کیا حادثہ ہوا ہے کہ ہم یاد آ گئے
پردیس میں جو آئی نظر نرگسی نگاہ
اک با وفا کے دیدۂ نم یاد آ گئے
مدت ہوئی ہے بچھڑے ہوئے اپنے آپ سے
دیکھا جو آج تم کو تو ہم یاد آ گئے
سلجھائیں جب بھی زیست کی ساغرؔ نے گتھیاں
ناگاہ تیری زلف کے خم یاد آ گئے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






