ساری یادوں کو بھلا سکتا ہوں
Poet: Muhammad Tanveer Baig By: Muhammad Tanveer Baig, Islamabadساری یادوں کو بھلا سکتا ہوں،لیکن کبھی نہیں
میں سب رشتے مٹا سکتا ہوں،لیکن کبھی نہیں
یوں ہی ٹھکرا دیا اس نے جو مجھے کسی غیر کے لئیے
ایک پل میں اسے رسوا کر سکتا ہوں،لیکن کبھی نہیں
ھر موڑ پر جو وہ کہہ جاتا ھے میں جانتا نہیں تمھیں
اسے میں سب یاد دلا سکتا ھوں،لیکن کبھی نہیں
اس کے محبت بھرے خط جو لکھے اس نے میرے لیئے
پڑھ کر میں سب کو سنا سکتا ھوں،لیکن کبھی نہیں
وہ جو بےوفائی کرتا رہا رلا تا رہا مجھے ھمیشہ
ایسے میں اسے بھی رلا سکتا ہوں،لیکن کبھی نہیں
اس کی یادیں جو چھوڑتی نھیں مجھے کسی پل بھی
خود کو میں ان سے جدا کر سکتا ہوں،لیکن کبھی نہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






