سارے عالم سے میں بے خبر ہو گیا
Poet: توقیر اعجاز دیپک By: توقیر اعجاز دیپک, Jhangسارے عالم سے میں بے خبر ہو گیا
جب سے اس کا مرے دل میں گھر ہو گیا
میری ان سے ہمیشہ عداوت رہی
جن کا تیری گلی سے گزر ہو گیا
جانتا تھا کہ وہ سچ نہیں کہہ رہا
اس کی باتوں کا پھر بھی اثر ہو گیا
جسم کی بھوک جب حد سے باہر ہوئی
اِنس رشتوں سے بھی بے خبر ہو گیا
کاٹ کر اس کا ایندھن بنایا گیا
پیڑ گلشن میں جو بے ثمر ہو گیا
تنگ مظلوم پر یہ زمیں ہو گئی
اور ظالم یہاں پہ نِڈر ہو گیا
رہنما اور رہزن کی تفریق میں
طے مری زندگی کا سفر ہو گیا
ایک شبنم کا موتی تھا دیپک مگر
وقت کی آگ میں یہ شرر ہو گیا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






