سانحہ پشاور
Poet: NEHAL GILL By: NEHAL, Gujranwalaپہلے لاہور اب پشاور میں طوفان آیا ہے
کوئی عیسائی یا مسلمان نہیں حیوان آیا ہے
ضمیر کو مار کے جو گرجوں میں گھُس گیا
لے کے آتشبازی کا ساتھ سامان آیا ہے۔
مسجاجد ہو یا گرج مندر ہو یا کوئی دربار
گِرا دیا ظالم نے رستے میں جو مکان آیا ہے
خود کو بھی اُڑا دیا باقیوں کے ساتھ ساتھ
پتہ کرو کس سے جُرات لئے جوان آیا ہے
آج لعشیں دیکھ کے اپنی آنکھوں سے یارو
دل میں مر جانے کا میرے ارمان آیا ہے
عبادت گاہوں پے فوج کے پہرے ہیں آج کل
شرم آتی ہے مجھے یہ کیسا جہان آیا ہے
خدا کا نام بھی کوئی بے خوف نہیں لے سکتا
آج ڈر ڈر کے خدا کے گھر انسان آیا ہے
لے کے نام غیروں کا اب تماشا نہ کھڑا کرنا
اپنوں سے ہی نکل کے یہ کوئی شیطان آیا ہے
نہال (انجیل) کے غم میں شریک ہیں (توریت و زبور)
دینے دلاسے باہوں میں لئے خود (قرآن) آیا ہے
پہلے لاہور اب پشاور میں طوفان آیا ہے
کوئی عیسائی یا مسلمان نہیں حیوان آیا ہے
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم
اکیلے ہی گزارا کر لیا میں نے
سکوں ملتا نہیں مجھ کو اجالے میں
اندھیروں کو ہی پیارا کر لیا میں نے
اگرچہ زیست مشکل تھی یہ تیرے بن
مگر سب کچھ گوارا کر لیا میں نے
یہ دنیا نفع کی عادی تو ہے لیکن
محبت میں خسارا کر لیا میں نے
جھکا کر سر گریبانِ جنوں میں پھر
عجب دلکش نظارا کر لیا میں نے
مقدر کی اندھیری رات میں گویا
خود اپنے کو ستارا کر لیا میں نے






