سانسوں میں سانسیں گھل جائیں
Poet: Seema Naaz By: Seema Naaz, Baltimoreسانسوں میں سانسیں گھل جائیں ہم اتنا قریب ہوجائیں
جینا سہل ہوجائےایسی اگر چند ساعتیں نصیب ہوجائیں
میرے ہونٹ ترستے ہیں تیرے لبوں کی حلاوت کے لئے
تمہیں پانے کی خاطر تیار ہوں خود سے بغاوت کے لئے
تمہارےلبوں کی نرمی کو محسوس کرسکوں ہاتھوں سے
تمہاری خاموشی مجھے آشنا کر دے نت نئی باتوں سے
میرے کھلے ہونٹ تمہیں اجازت دیتے ہیں چومنے کے لئے
جسم بے چین رہتا ہے تمہارے بازووں میں جھولنے کے لئے
خیالوں میں تمہیں چھو رہی ہوں میں تمہاری ہو رہی ہوں
یہ کونسی دنیا ہے میرے ہمدم جس میں میں کھو رہی ہوں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






