سانسیں ہیں بہکی بہکی آنکھوں میں مستیاں(گیت)
Poet: Dr.Zahid Sheikh By: Dr.Zahid Sheikh, Lahore Pakistanزلفیں ہیں بکھری بکھری اور لب پہ شوخیاں
سانسیں ہیں بہکی بہکی ، آنکھوں میں مستیاں
مانا کہ اور بھی ہیں جہاں میں بہت حسیں
تم سا مگر نہیں ہے کوئی بھی مہہ جبیں
شام و سحر قریب تمھیں دیکھتا رہوں
اک پل کی تم سے دوری گوارا مجھے نہیں
مجھ پر گرا رہے ہو اداؤں کی بجلیاں
سانسیں ہیں بہکی بہکی،آنکھوں میں مستیاں
ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے چلیں کہہ رہا ہے دل
بانہوں میں لے کے پیار کریں چاہتا ہے دل
تم سے بہل گیا ہوں نہ اب ساتھ چھوڑنا
تنہا ہوں عمر بھر کو تمھیں مانگتا ہے دل
اڑتی ہیں تیرے پیار کی اس دل میں تتلیاں
سانسیں ہیں بہکی بہکی، آنکھوں میں مستیاں
زلفیں ہیں بکھری بکھری اور لب پہ شوخیاں
سانسیں ہیں بہکی بہکی ، آنکھوں میں مستیاں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






