سبھی کہتے زمانے میں کوئی انسان اچھا تھا
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, نیویارکسبھی کہتے زمانے میں کوئی انسان اچھا تھا
اگر ہوتی محبت میں تری پہچان اچھا تھا
ترے آنے سے بگڑا ہے یہ چہرہ میرے جیون کا
مرے ماتھے پہ چاہت کا وہی بہتان اچھا تھا
جی ایسا ہو نہیں سکتا کہ کانٹے پھول بن جائیں
وگرنہ زندگی کا راستہ گنجان اچھا تھا
اگر ہم حال میں دیکھیں بہت توہم پرستی ہے
مرے سوچوں میں ماضی کا وہی انسان اچھا تھا
وہ بچھڑا ہے تو یاد آیا ستم کرتی رہی اس پر
مرا سوہنا ، مرا دلبر ، مرا دل جان اچھا تھا
مرے چاروں طرف ہی کیوں اگی کانٹوں کی بیلیں ہیں
مرے آنگن میں یادوں کا اگر گلدان اچھا تھا
اسے جب مار ڈالا ہے تو پھر کیا سوچنا وشمہ
مرے سینے میں وحشی سا کوئی حیوان اچھا تھا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






