سب ترے واسطے
Poet: Chaudhry Tahir Ubaid Taj By: Ch. Tahir Ubaid Taj, Islamabadمیری الفت، وفا، سب ترے واسطے
راحتوں کی دعا، سب ترے واسطے
حالِ دل سے میرے کب تو واقف نہ تھا
پھر بھی جو کچھ لکا، سب ترے واسطے
تیرے عشاق نکلے پتہ ڈھونڈنے
ہیں وہی لاپتہ سب ترے واسطے
یہ اندھیرا، سیاہی مجھے سونپ دے
رنگِ قوس قزح سب ترے واسطے
بس کہ اپنائیت کا اگر جام ہو
تو میرے ساقیا! سب ترے واسطے
ایرے غیرے جو تھے کچھ میرے آشنا
وہ تعلق بھی تھا سب ترے واسطے
آج طاہر نے اپنوں کا رکھا بھرم
کس لئے اے خدا؟ سب ترے واسطے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






