سب سے چھپاتےفھرتے ہیں تیرے پیار کو
Poet: اسد رضا By: ASAD, MPK سب سے چھپاتےفھرتے ہیں تیرے پیار کو
کہیں بھنک نہ لگ جائے ظالم سنسار کو
مانا دل کی حالت اپنے خستہ ھے بہت۔۔۔
مگر کہاں لے جایئے اپنے دل بیمار کو؟؟؟
دور تلک نگاہ میں دکھائی پڑتا ھے صحرا۔۔۔
خدا جانے کیا ہو گیا ھے رت بہار کو۔۔۔
ذکر الفت چھیڑ کر کوئی خود بھی رو پڑا۔۔۔
کہتاھےمیں بھولا نہیں تیرے پیار کو۔۔۔
دو خبر آنے کی تم آتے ہو کہ نہیں؟؟؟
وگرنہ! بھاڑ میں ڈالوں تیرے انتظار کو۔۔۔
پیارنے تمہاری ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑا۔
صبح شام تڑپتے ہیں اب تیرے دیدار کو۔۔
حیف ! تیری یہ مسیحائی پھر کس کام کی؟؟
جب کوئی آرام میسر نہیں دل بے قرار کو۔۔
آ کہ چھپا لوں تجھکو میں یار دل میں کہیں۔
کہ کانو کان کوئی خبر نہ ہو سنسار کو۔۔۔
انتظار کی تمہاری امید چھوڑی نہیں دل نے۔
شاید کہیں سے آ جائے تو اب کی بار کو۔۔۔
جب سے ملے ہو تم یوں لگتا ھے جیسے۔۔۔
ہم بھول سے گئے ہیں سارے سنسار کو۔۔۔
اسد دل چیر کر دکھلانے سے کیا مطلب؟؟؟
کیا؟ کوئی کھپت پڑ گئی ھے تیرے اعتبار کو؟
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم
اکیلے ہی گزارا کر لیا میں نے
سکوں ملتا نہیں مجھ کو اجالے میں
اندھیروں کو ہی پیارا کر لیا میں نے
اگرچہ زیست مشکل تھی یہ تیرے بن
مگر سب کچھ گوارا کر لیا میں نے
یہ دنیا نفع کی عادی تو ہے لیکن
محبت میں خسارا کر لیا میں نے
جھکا کر سر گریبانِ جنوں میں پھر
عجب دلکش نظارا کر لیا میں نے
مقدر کی اندھیری رات میں گویا
خود اپنے کو ستارا کر لیا میں نے






