ستارے آنسوؤں کی روشنی معلوم ہوتی ہے
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیاگھٹن میں جی لیاہے بے بسی معلوم ہوتی ہے
ستارے آنسوؤں کی روشنی معلوم ہوتی ہے
ڈسے ہم ہیں، ڈسے تم ہو، مگر دشمن نہیں ملتا
کہیں باہر نہیں یہ دشمنی معلوم ہوتی ہے
کوئی پارس نہیں چھوتا، مگر سونا نکلتا ہے
چلو مل جل کے ہم ہی دوستی معلوم ہوتی ہے
جہاں آدم بنے انساں کہیں ڈھونڈو وہی بھٹی
بنیں ایندھن، وہی یہ زندگی معلوم ہوتی ہے
مجھے پھر سوچنا ہو گا، کہیں ظاہر نہ ہو جائیں
جو اندر کی ہیں سب باتیں خوشی معلوم ہوتی ہے
کسی بھی ایک پلڑے میں جھکاؤ، کس قدر مشکل
سمجھتے سوچتے یہ عاشقی معلوم ہوتی ہے
گزارہ جب بھی قوموں نے کیا وشمہ برائی میں
پڑا رونا، وہی پر بے کسی معلوم ہوتی ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






