ستم بھی ترا ہم کرم دیکھتے ہیں
Poet: قاسم بابا By: Qasim Mahmood, Londonستم بھی ترا ہم کرم دیکھتے ہیں
نہ ٹوٹے یہ اپنا بھرم دیکھتے ہیں
جنوں سے بھی آگے کی منزل ہے اپنی
کہاں تک ملیں گے الم دیکھتے ہیں
حقیقت محبت کی پا کر رہیں گے
بہت عزم راسخ ہے ہم دیکھتے ہیں
نہ دولت کے بھوکے نہ شہرت کے طالب
ہم اہلِ قلم بس قلم دیکھتے ہیں
ادب کی زبانیں ہزاروں ہیں لیکن
ہو اردو کا اونچا عَلم دیکھتے ہیں
سرِ عام رودادِ الفت سنا کر
"تماشائے اہلِ کرم دیکھتے ہیں"
نظر میں کئی دوست آئے پرانے
زمانے کی چالیں جو ہم دیکھتے ہیں
نگہ جن کی ہوتی ہے منزل پہ قاسم
ستاروں کو وہ ہم قدم دیکھتے ہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






