سجدے میں ہے سر میرا دھڑکتا ہوا دل ہے
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیااک بار صنم تجھ کو پکارا ہے کہاں ہو
ہوجائے دعا پوری مجھے مجھ سے عیاں ہو
سجدے میں ہے سر میرا دھڑکتا ہوا دل ہے
ظالم ہے زمانہ مجھے تو بچا کہاں ہو
ڈستا ہے مجھے دیکھ تخیل کا یہ طوفاں
تو باد صبا بن کے تخیل پہ سماں ہو
آنکھوں میں ہے اک درد کا طوفان اگر چہ
میں خواب بھی آنکھوں میں اتارا یہ سماں ہو
چاہا ہے سرِ دشت تجھے جانِ تمنا
گھر اپنا مری جان مرے دل کی زباں ہو
قندیل وفا بن کے سلگتی رہی وشمہ
بکھری ہوئی یہ خاک مری آ کے عیاں ہو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






