سدا نہ رہے گا
Poet: Syed Ishtiaq Hussain Kazmi By: Syed Waqas Shah, RAWALPINDIیہ دل خستہ خستہ سدا نہ رہے گا
تم ہی سے وابسطہ سدا نہ رہے گا
ابھی کچھ تقاضے ہیں الفت کے باقی
جو طاری ہے سکتہ سدا نہ رہے گا
کبھی گل و خوشبو میں ہم جا بسیں گے
یہ منزل یہ رستہ سدا نہ رہے گا
اہل حسن دیکھنا جان تک وار دیں گے
میرا دل شکستہ سدا نہ رہے گا
جان و دل لوٹ لو جتنی اب ہے تمنا
دام الفت کا سستہ سدا نہ رہے گا
خزانہ جوانی سے کچھ تم بھی پا لو
یہ موجوں کا رستہ سدا نہ رہے گا
جان لو جو کبھی اس غم کی بدولت ہے اشتیاق
جو ہے حال خستہ سدا نہ رہے گا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






