سرمئی آنکھون میں ڈورے گلابی
Poet: اسد جھنڈیر By: ASAD, MPK سرمئی آنکھون میں ڈورے گلابی
کرتے ہیں پیدا دل میں اضطرابی
جوبھنی حسن اس پر یہ نکھار ۔
کرتا ھے دل پر گہرا کوئی وار۔
ریشمی زلفین ہیں گھن گھور گھٹا۔
ہم پر بھی برسا دے پیار کی فھار۔
چال ھرنی جیسی ھے مدھم ! مدھم !
گل کی خوشبوء جیسی ھے تیری گفتار۔
حسن کا تیرے ثانی نہیں کوئی۔
جو دیکھے تجھکو ہو جائے ھے نثار۔
دعوہ ھے میرا اسد وہ فدا ہو جائےگا۔
جو اک نظر دیکھ لے تجھکومیرے یار۔
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






