سرگوشیاں
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, malaysiaترے خیال سے سرگوشیاں کروٓں کب تک
میں تیری یاد سے بہلاوٓں خود کو اب کب تک
بسا کے روح میں تجھ سے کلام کرتی ہوں
میں اپنے خوابوں کی دنیا میں کھوئے رہتی ہوں
دلِ تباہ کے ہمراہ تھک گئیں آنکھیں
ہمارے بیچ کے اب فاصلے بھی بڑھتے ہیں
یہ بھیگی آنکھوں میں شیشوں کی کرچیوں کی طرح
تمام عمر یہ لگتا ہے چبھنے والی ہیں
یہ میرے دل کو ہمیشہ ہی ڈسنے والی ہیں
یہ سسکیاں، یہ مرے اشک ،اف، ارے توبہ
میں اپنے درد کو کب تک دلاسا دیتی رہوں
اب انتطار کے لحمے بھی خود پریشاں ہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






