سر راہگزر
Poet: rana ashfaq qaiser By: rana ashfaq ahmed, alluwaliسر راہگزر کوئی منتظر میرے راستے میں کھڑا ہوا
کبھی مضطرب کبھی مطمعن کبھی وسوسوں گھرا ہوا
وہ جو اپنے چہرے پہ مسکراہٹ سجائے رہتا تھا ہر گھڑی
یہ کیا ہوا کہ اسی کا چہرہ ہے آنسوئوں سے بھرا ہوا
ہجر کی راہوں پہ چلتے چلتے قدم ہمارے نہ ڈگمگائے
وہ جو دوستوں میں رہا ہمیشہ کیوں لگ رہا ہے تھکا ہوا
ہر اجنبی ہر آشنا سے وہ میرے باعے میں پوچھتا ہے
جفا نے جس کی ہے لمحہ لمحہ میرے دل کو دسا ہوا
وہ جو بزم اپنی میں نام تک بھی نہ سن سکے تھا ہمارا ہرگز
وہ میرے بارے میں پوچھتا ہے میں سوچتا ہوں یہ کیا ہوا
وہ جو نہ قائل تھا پہلے دن سے محبتوں کی صداقتوں کا
اسی کی ڈائری کے ہر ورق پہ ہے نام میرا لکھا ہوا
حسن اسکا بھی ڈھل گیا ہے نہ میرے جذبے جواں رہے
میری آنکھوں میں پھر بھی قیصر ہے اسکا چہرہ بسا ہوا
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






