سزا دو مجھ کو
Poet: S. Hasnain Raza Saair By: S. Hasnain Raza Saair, Karachiچاہو جو میری خطاؤں کی سزا دو مجھ کو
پر خطا کیا ہے ذرا اتنا بتا دو مجھ کو
ہم نے چاہا تھا صنم تم کو تو آخر کیوں کر
ان وفاؤں کے صلے ایسی وفا دو مجھ کو
گونجتی رہتی ہے اب تک تیری کانوں میں ہنسی
تم کہاں ہو، کہیں سے تو صدا دو مجھ کو
اب بھی آتی ہیں مجھے یاد وہ پیاری باتیں
پھر سے اک بار وہی پیار جتا دو مجھ کو
ساری امیدوں کو ناکام ہوتے دیکھا ہے
اپنی امید کی اب تم ہی فنا دو مجھ کو
بھولنا تم کو ہمارے لئے ناممکن ہے
جو ہو سکے تو صنم تم ہی بھلا دو مجھ کو
اب اگر سوچ ہی لیا ہے جو قطع کا سائر
میں مر ہی جاؤں کوئی ایسی سزا دو مجھ کو
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar







