سلسلے وفاؤں کے
Poet: sehrish By: sehrish zahid, narang mandiسلسلے وفاؤں کے ٹوٹ جاتے ہیں اکثر
ساحل پر مسافر ڈوب جاتے ہیں اکثر
عمر بھر ساتھ نبھائیں گے یہ کہ کر
زندگی بھر کے لئے بچھڑ جاتے ہیں اکثر
نازک طنابوں کے یہ خوبصورت بندھن
ہوا کی سرگوشیوں سے ٹوٹ جاتے ہیں اکثر
جو تنہائی میں بھی ہمیں یاد نہیں کرتے
محفل میں وہ ہمیں یاد آتے ہیں اکثر
ان جذبات کی نزاکت کوئی کی سمجھے
بےرخی سےبھی یہ مرجاتے ہیں اکثر
کتنے ہی ماہ جبیں چہرے سحر
زمیں اوڑھ کر سو جاتے ہیں اکثر
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






