سمندر کے کناروں میں تمارا عکس دیکھا ہے
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملائیشیادا اجلے خیالوں میں تمارا عکس دیکھا ہے
محبت کے گلابوں میں تمارا عکس دیکھا ہے
نصابِ زندگانی میں بہت ہیں تلخیاں لیکن
وفا کی ان کتابوں میں تمارا عکس دیکھا ہے
بہت ہی دلنشیں ہے یہ ثقافت میری دھرتی کی
یہاں رکتی بہاروں میں تمارا عکس دیکھا ہے
تمارے نام سے میری ہر اک شب جگمگاتی ہے
کہ سورج ،چاند،تاروں میں تمارا عکس دیکھا ہے
کبھی دیکھا تمیں میں نے گلوں کی ڈال پر کھلتے
کبھی خوشبو کے خوابوں میں تمارا عکس دیکھا ہے
تماری ذات اے وشمہ وفا کا اک جزیرہ ہے
سمندر کے کناروں میں تمارا عکس دیکھا ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






