سنائی دے رہی ہیں کیا تمہیں سرگوشیاں دل کی گی ( گیت )
Poet: Azra Naz By: Azra Naz, Reading UKسنائی دے رہی ہیں کیا تمہیں سرگوشیاں دل کی
کہ بڑھتی جا رہی ہیں دن بدن مدہوشیاں دل کی
تمہی کو دل نے مانگا ہے تمہی کو دل نے چاہا ہے
تمہاری ہر ادا کو دل نے چپکے سے سراہا ہے
نہ سن پائے مگر تم آج تک خاموشیاں دل کی
سنائی دے رہی ہیں کیا تمہیں سرگوشیاں دل کی
تری آنکھوں کی مستی پہ دل و جاں وار ڈالے ہیں
نشے تیری محبت کے زمانے سے نرالے ہیں
کہاں لے جاوَں اب میں ہائے یہ مے نوشیاں دل کی
سنائی دے رہی ہیں کیا تمہیں سرگوشیاں دل کی
تمہیں دیکھا تو مطلب زندگانی کا سمجھ آیا
مرے دل نے یہ چاہا بن کے رہ جاوَں ترا سایہ
مرے جذبوں کو رسوا کر نہ دیں بے ہوشیاں دل کی
سنائی دے رہی ہیں کیا تمہیں سرگوشیاں دل کی
سنائی دے رہی ہیں کیا تمہیں سرگوشیاں دل کی
کہ بڑھتی جا رہی ہیں دن بدن مدہوشیاں دل کی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






